Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

Shatranj Subject_Philosophy First published in 1901

SKU: 15970138448

4.6
USD450.00 USD477.00

Pay in 4 interest-free payments of $112.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 27 - Aug 1

Description

First published in 1901

یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ ۱۹۴۷ء میں برطانوی استعمار سے سیاسی آزادی کے فوری بعد ہم نے اپنے تعلیمی ، آئینی، انتظامی اداروں اور زبان وادب اور ثقافتی شعبوں کو استعماری اثرات سے آزاد کرانے یعنیDecolonization کی ہمہ گیر مساعی کیوں نہیں کیں؟ آزادی کی بعد کی تحریروں میں راج ، نو آبادیات، غلامی، آزادی کی تحریک اوراس کے قائدین کا ذکر تو کثرت سے ملتا ہے؛ آزادی کی صبح کے اجالے کے داغ داغ ہونے کا نوحہ بھی ملتا ہے؛ ثقافتی شناخت کے تعین کی سعی بھی ملتی ہے؛ادب کی پاکستانی شناخت کا سوال بھی ملتا ہےنیز جس استعمار سے آزادی کے لیے جدوجہد کی گئی، اس استعمار کے معاشی، ثقافتی استحصال کی نشان دہی منتشر صورت میں ملتی ہے ،مگر جن اداروں اور تصورات کے تحت یہ استحصال ممکن ہوا، ان پر کوئی باقاعدہ اور مسلسل ڈسکورس نہیں ملتا ہے۔دو ایک اردو نقادوں نے مغربی ادبی کینن کے غلبے کی طرف اشارہ ضرور کیا اور اس کی جگہ عرب و عجم یا مقامی صوفیانہ روایت کی طرف توجہ کرنے کے ضرورت کا احساس ضرور دلایا مگر استعماری اجاراہ دارانہ روشوں اور تصورات اور ہیئتوںسے نجات کی باقاعدہ عظیم تنقیدی کوشش نظر نہیں آتی۔ اس ڈسکورس کے غیر موجودگی آج ہمیں زیادہ محسوس ہوتی ہے اور کئی سوالات جنم دیتی ہے۔ کیا اس لیے کہ ہماری سیاسی مقتدرہ نے ایک مذہبی ریاست کی تعمیر کو اپنا بنیادی مقصد بنایا اور مذہبی ریاست کا وہ تصور قبول کیا، جسے ایک ’غیر ‘(the other) یعنی ہندو کے مقابلے میں وضع کیا گیا تھا؟ کیا اسی لیے آزادی کے بعد ، ہم نے اپنے ہر شعبہ ء زندگی بہ شمول زبان اور جملہ فنون کو ہندووانہ عناصر سے پاک کرنے کی کوشش کی؟ کیوں اپنے ہرشعبہ ء زندگی کو استعماری اثرات سے آزاد کرانے کے بجائے،ہم اسی استعماری عہد میں ایجاد ہونے والے دشمن کے بھوت کو ٹھکانے لگانے کی کوششوں میں مصروف رہے؟ آج ہمارے لیے یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ کیوں ہماری دانشورانہ وتخلیقی سرگرمیوں کا رخ یا تو اپنی ذہنی وتخیلی دنیا کو مذکورہ’ غیر‘ سے ’پاک کرنے ‘ کی طرف رہا (منٹو کا آزادی کے فوری بعد لکھا ہوا ’اللہ کا بڑا فضل ہے‘ یاد کیجیے)یا پھر ہجرت وبے دخلی (displacement) کو بیان کرنے اور اس کی تاریخی، مذہبی جڑیں تلاش کرنے اور گزرے زمانوں کے احیاو بازیافت کی جانب رہا؟ کیا تاریخ نے ہمارے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہیں چھوڑا تھا ؟ بچی کچھی توانائی آمریتوں کے خلاف جھگڑنے میں صرف ہوئی۔

Title: International and Domestic Arbitration in Pakistan: Law and Practice (Student Version)

Stein not only describes the campaigns of the Great Conqueror Alexander in his book but also very intricately deal with the history and culture of each region he visited

Title: Self & Sovereignty

Shatranj Subject_Philosophy First published in 1901Writer: Abdal Bela Views: 2102 Category: Short Stories Pages: 360

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products