Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

Fasana e Mubtala by Deputy Nazeer Ahmed فسانہ مبتلا ڈپٹی نذیر احمد لبرل یہ کتاب مصنف نے 23

SKU: 91220154456

4.2
USD250.00 USD271.00

Pay in 4 interest-free payments of $62.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 16 - Aug 21

Description

یہ کتاب مصنف نے 23 سال کی عمر میں لکھنی شروع کی تھی اور تین سال کی محنت شاقہ کے بعد اُنھوں نے اسے مکمل کیا۔ پہلی مرتبہ اس کی اشاعت 1930ءمیں دارلمصنّفین،اعظم گڑھ (یو ۔پی، انڈیا) سے ہوئی تھی۔جس وقت یہ منظر عام پر آئی توعلامہ اقبال مرحوم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ جہاد کے موضوع پر ایسی محقّقانہ اور غیر معذرت خواہانہ کتاب اُردو توکیا، دوسری کسی زبان میں بھی نہیں لکھی گئی۔ ابتدا اس کا محرک یہ ہوا تھا کہ 1926ءمیں جب سوامی شردھانند کے قتل پر سارے ہندستان میں ہنگامہ اُٹھ کھڑا ہوا اور اسلام پر چاروں طرف سے حملے ہونے لگے، تو ایک روز مولانا محمد علی جوہر مرحوم نے اپنی تقریر میں کہا کہ کاش کوئی بندۂ خدا اس وقت اسلامی جہاد پر ایسی کتاب لکھے جو مخالفین کے سارے اعتراضات والزامات کو رفع کر کے جہاد کی اصل حقیقت دنیا پر واضح کردے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے مولانا کی زبان سے یہ بات سن کر اپنے دل میں خیال کیا کہ وہ بندۂ خدا میں ہی کیوں نہ ہوں؟ چنانچہ اسی وقت اُنھوں نے یہ کام شروع کردیا۔اس کی تالیف میں جس وسیع پیمانے پر اُنھوں نے علمی تحقیقات اور ذہنی کاوش کی ہے، اس کا اندازہ کتاب کو پڑھنے والا ہر شخص خود کرسکتا ہے۔

آپ نے اپنی شاعری میں جہاں ہر موضوع سخن کو بیان کیا ہے وہاں پر محمد و آل محمد جیسی عظیم ہستیوں پر گفتگو بھی کی ہے۔ آپ کو اہل بیتِ رسول سے عشق محبت و مودت تھا۔ آپ نے اپنے کلام و بیان میں آل اطہار کو مرکزی نقطہ قرار دیا ہے۔ ان کریم اور پاکیزہ ہستیوں کو اپنی زندگی کا محور و مرکز قرار دیا ہے۔

Set against the backdrop of the Napoleonic Wars (1805-1815)

علامہ ابن کثیر آیات کی توضیح میں بکثرت قرآنی آیات لاتے ہیں۔ بعد ازاں آیت کے متعلقہ حدیث لاتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ ان میں سے کون سی قابل حجت ہے اور کون سی قابل حجت نہیں۔ اس کے بعد صحابہ و تابعین اور دیگر علمائے سلف کے اقوال تقل کرتے ہیں۔ مفسر موصوف صرف نقل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ بعض اقوال کو بعض پر ترجیح دیتے ہیں، بعض روایات کو صحیح اور بعض کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور راویوں پر جرح و تعدیل بھی کرتے ہیں، اس لئے کہ انہیں فنون حدیث اور رجال و علل کے متعلق مکمل آگاہی حاصل تھی اور وہ ایک بالغ نظر محدث تھے۔ ان کا بڑا کارنامہ یہی ہے کہ انہوں نے تفسیر کو اسرائیلی روایات سے چھانٹ کر الگ کر دیا۔ تفسیر ابنِ کثیر کے مصادر و مآخذ تفسیر ابنِ جریر، تفسیر ابنِ ابی حاتم، تفسیر ابنِ عظیہ اور دیگر متقدمین ہی

اس کتاب میں ہر دور اور علاقے میں موجود بزرگ کی مختصر سوانح ۔۔۔ حیات و تعلیمات ۔۔۔ اور پیدائش اور وفات کے ساتھ ساتھ پھر ان بزرگوں سے آگے یہ سلسلہ کیسے چلا اس کا بھی ذکر موجود ہے ۔۔۔

Fasana e Mubtala by Deputy Nazeer Ahmed فسانہ مبتلا ڈپٹی نذیر احمد لبرل یہ کتاب مصنف نے 23

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products