Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

NAMAL by Nimra Ahmed نمل یکجا ڈاکٹر اسرار احمد Abdullah 1

SKU: 22637172399

4.7
USD1650.00 USD1687.00

Pay in 4 interest-free payments of $412.50 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 19 - Aug 24

Description

Abdullah 1

حافظ شیرازی صاحب کی تمام عمر کا حاصل بس ایک ہی دیوان ہے جو مقبول خاص و عام ہے۔ حافظ شیرازی کی شاعری کا سرمایہ ان سے زیادہ نہیں مگر اس سرمایہ سے انہوں نے تمام دنیا کی قدر دانی اور قبولیت خریدی۔ خواجہ صاحب نے کمال ایجاز سے عاشقانہ اور عارفانہ فضاء میں شاعری کی۔ ان کے یہاں مولانا روم کی حکمت و تصوف اور سعدی کا درس عشق ایک ساتھ نظر آتا ہے۔حافظ شیرازی کے دیوان میں غزلیں ملتی ہیں۔ دو مختصر مثنویاں ایک (ساقی نامہ) اور چند قصیدے اس پر مستزاد۔ حافظ شیرازی نے سعدی اور رومی کی پیروی کی۔ دیوان میں کم ازکم تیس غزلیں سعدی کی بحر میں ہیں اور چند رومی کے زیر اثر ہیں مگر الفاظ ، تراکیب ، معانی آفرینی اور دل آویزی میں آپ کا کلام اول سے آخر تک منفرد ہے۔ خواجہ صاحب کا دیوان کا ہر شعر نزاکت و لطافت ، ضائع و بدائع اور حسن و ادا کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ دیوان حافظ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اہل ایران حافظ کے دیوان سے فال نکالتے ہیں۔ دیوان کی اہمیت کے پیش نظر کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوئے۔ زیر نظر دیوان میں فارسی عبارت کے ساتھ اردو ترجمہ اور حواشی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

مصنف: ڈاکٹر غلام جیلانی برق

انکار سنت کا فتنہ اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں اُٹھا تھا اور اس کے اُٹھانے والے خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وہ سنت حائل تھی جس نے اس معاشرے کو ایک نظم و ضبط پر قائم کیا تھا، اور اس کی راہ میں حضور کے وہ ارشادات حائل تھے جن کی موجودگی میں خوارج کے انتہا پسندانہ نظریات نہ چل سکتے تھے۔ اس بنا پر اُنھوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دو گونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کو اس کی ضرورت اس لیے لاحق ہوئی کہ عجمی اور یونانی فلسفوں سے پہلا سابقہ پیش آتے ہی اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات ذہنوں میں پیدا ہونے لگے تھے، اُنھیں پوری طرح سمجھنے سے پہلے وہ کسی نہ کسی طرح اُنھیں حل کر دینا چاہتے تھے۔ خود ان فلسفوں میں ان کو وہ بصیرت حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی صحت و قوت جانچ سکتے۔ اُنھوں نے ہر اس بات کو جو فلسفے کے نام سے آئی، سراسر عقل کا تقاضا سمجھا اور یہ چاہا کہ اسلام کی عقائد اور اصولوں کی ایسی تعبیر کی جائے جس سے وہ ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں۔ اس راہ میں پھر وہی حدیث و سنت مانع ہوئی۔ اس لیے اُنھوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھیرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کیا۔

دانش رومی و سعدی از ڈاکٹر غلام جیلانی برق

NAMAL by Nimra Ahmed نمل یکجا ڈاکٹر اسرار احمد Abdullah 1

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products